یا اللّٰہ میں کبھی ریٹائر نہ ہوں



میں اللہ سے دعا کرتا ہوں یا باری تعالیٰ میں کبھی ریٹائر نہ ہوں. وہ لو Love ہے نا سر، کبھی ہوا ہے جناب مچھلی کے کہ جی ان ساٹھ سال میری عمر ہو گئی ہے آگے سے میں تیرنا نہیں ہے۔ 

کبھی وہ جناب بندر بیٹھا ہوا آرام سے کیلے لے کے اور کہے نہیں میں درخت نہیں میں کبھی درخت پر نہیں چڑھنا۔ کبھی ہوا شیر کہے کہ جناب بڑا ہو گیا دھاڑ لیا بس ہو گئی جی، حد ہوتی کوئی او جی میں نہیں کرنا آئندہ۔  مرغا کہے جی نہیں جی میں نے بانگ نہیں دینی بہت ہو گئی یہ میرا گلا تھک جاتا ہے مجھے سب سمجھا کے دے دو کوئی مرغے نے یہ نہیں کہا سر جی جو نیچرل ہے وہ ریٹائرڈ نہیں ہوتا جو قدرتی ہے وہ ریٹائر نہیں ہوتا جو پیشن ہے وہ ریٹائر نہیں ہوتا سو کسی نہ کسی شکل میں ہمیں خود کو یا آج سب گول (مقصد) بنا لو مذاق نہیں، کسی بندے نے آپ کو یہ بات نہیں کہنی میں نے کہا اگر آج اللّٰہ سے دعا مانگو جیسے میں مانگ رہا ہوں یا باری تعالیٰ میں نے رہنا ساری زندگی busy ہے ہاں ممکن ہے بدل جائے کام بدل جائے نوعیت بدل جائے۔ اس کی شکل بدل جائے اس میں ممکن ہے کل کو ہم اپنے بچوں کو hand over کریں اپنا کام اور ہم کوئی سی ایس آر میں خدمت خلق میں یا ممکن ہے کوئی مسجد میں پنچایت بھی بنائی ہو ہم نے ساتھ کوئی نیکی کے کام بھی کر رہے ہوں کسی کی شادیوں میں help کر رہے ہوں۔ کسی نہ کسی کام میں busy رہنا اپنے کام پہ رہنا جڑا رہنا یہ بڑی ایک نیکی ہے۔ یہ بڑا کمال کا کام ہے اور یہ اپنی زندگی میں ضرور بہ ضرور آپ سوچیں کہ آپ نے اپنے کام سے محبت کرنی ہے کیونکہ کام سے محبت کرنے والا بندہ خوش رہتا ہے مزے میں رہتا ہے ایک کہیں نہ کہیں miss کیا ہے لیکن میں add کر دیتا ہوں کام سے محبت کرنے والا بندہ focus ہوتا ہے love ہمیشہ focus پیدا کرتا ہے۔ 

اگر آپ کا کوئی کام ہے اور آپ نے کرنا ہی ہے اور کوئی choice نہیں ہے اور کوئی راستہ نہیں ہے خدارا رو کے نہ کریں لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کام کریں اور تکلیفیں نہ ہوں problem نہ ہو تھکاوٹ نہ ہو جوتی نہ گھسے کنیے نہ چھلیں گرد نہ چہرے پہ پڑے its اے sign، کام کہیں نہ کہیں آپ کو کیا کرے گا سر وہ price ہے اس کی وہ کہیں نہ کہیں price ہے یہ بھی بات کہہ دوں دنیا میں خوش نصیب انسان وہ ہے جس کو کام اتنا تھکائے کہ اس کو اچھی سی نیند آ جائے۔ 

اس سے زیادہ خوش نصیبی کوئی نہیں ہے، صحیح دنیا کی بہترین tablet نیند کی وہ تھکاوٹ ہے اور original ایمانداری والی تھکاوٹ ہے کہ پورا دن آپ نے ڈٹ کے کام کیا ہے اور ایک پرسکون نیند آپ کو انعام کے طور پہ ملی ہے کیونکہ یاد رکھیے گا guilt نیند چھین لیتا ہے، doubt نیند چھین لیتا ہے، غلطی corruption ہونا حرام کھانا نیند چھین لیتا ہے جب بھی آپ کے پاس سکون ہے اور تھکاوٹ والی نیند ہے آپ بڑے خوش نصیب ہیں۔ 

تو اللّٰہ سے میں دعا مانگتا ہوں کہ اللّٰہ تعالیٰ ہمیشہ ہماری نیندوں کو سکون والی نیندیں رکھے. اطمینان والی اور تھکاوٹ سے بھرپور ہمیں وہ نیندیں ملے نہیں تو پھر مزہ نہیں آتا۔ 

(قاسم علی شاہ) 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عام انتخابات، مہنگائی اور عمران خان کی گرفتاری یا زبان بندی

موبائل فون سے کیسے دور رہیں؟

جنٹلمین (شریف شخص)