"اپنا دکھ مجھے دو"

سعد ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ ایک دن وہ گاؤں سے گزر رہا تھا کہ ایک بوڑھے آدمی کو بینچ پر اکیلا بیٹھا دیکھا۔ وہ سر جھکا کر بیٹھا ہوا تھا اور اداس نظر آرہا تھا۔ سعد اس کے پاس گیا اور پوچھا، "کیا ہوا؟ آپ اداس دکھائی دے رہے ہیں۔

بوڑھے نے اسے اپنی کہانی سنائی اور بتایا اس نے حال ہی میں اپنی بیوی کو کھو دیا تھا۔ اس کے پاس جانے والا کوئی نہیں تھا اور وہ خود کو تنہا محسوس کر رہا تھا۔

سعد نے شفقت سے اس کی کہانی سنی۔ وہ اس کے پاس بیٹھ گیا، اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا، اور کہا، "اپنا دکھ مجھے دے دیں، میں آپ کا بوجھ اٹھانا چاہتا ہوں تاکہ آپ بہتر محسوس کرسکو۔"

بوڑھا پہلے تو ہچکچایا لیکن پھر اس نے اپنے دکھ سعد کے ساتھ شیئر کیے اور وہ سنتا رہا۔

جب بوڑھا بول چکا تو سعد نے مسکراتے ہوئے کہا، "اب جب کہ آپ نے اپنے دکھ مجھ سے شیئر کیے ہیں، میں چاہتا ہوں آپ جان لیں کہ آپ اکیلے نہیں ہیں۔ جب بھی آپ کو میری ضرورت ہو میں آپ کے لیے حاضر ہوں"۔

بوڑھے نے مسکرا کر سعد کا شکریہ ادا کیا اور اسے گلے لگا لیا۔ اس لمحے سعد نے اسے طاقت اور امید دی تھی کیوں کہ اسے آگے بڑھنے کی ضرورت تھی۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عام انتخابات، مہنگائی اور عمران خان کی گرفتاری یا زبان بندی

موبائل فون سے کیسے دور رہیں؟

جنٹلمین (شریف شخص)