نماز کے لیے نیت

 
"نیت دل میں ارادہ کو کہتے ہیں"

#نیت دل کے ارادے کا نام ہے. یعنی آدمی کو جو بھی نیکی کا کام کرنا چاہیے. تو اس کے دل میں یہ ارادہ ہونا چاہیے کہ میں اللّٰہ کی خوشنودی کے لیے کام کر رہا ہوں یہ زبان سے کچھ کہنے کا نام نہیں ہے. آپ اللّٰہ کے لیے #نماز پڑھنے کھڑے ہوئے ہیں. دل میں ارادہ کیجیے اللّٰہ اکبر کہہ کے نماز شروع کیجیے بس۔

یعنی یہ لوگوں کی بنائی ہوئی ہے. اگر یہ کوئی چیز ایسی ہوتی تو عربی زبان میں ہوتی یہاں لوگوں نے بنا لیا اور اس نیت کا ایسا اصرار ہوتا ہے. میں دیہات میں تھا مقیم ایک زمانے میں تو میرے ساتھ صبح کی نماز میں ایک بزرگ کھڑے ہوتے تھے عام طور پہ
اور بارہا میں نے یہ دیکھا کہ وہ نیت شروع کرتے تھے اور دو رکعت نماز پیچھے اس امام کے منہ طرف قبلہ، وہ درمیان میں بھول جاتے تھے. پھر دوبارہ اس کو شروع کر لیتے تھے اتنی دیر میں امام رکوع میں جا رہا ہوتا تھا اور ان کی نیت مکمل نہیں ہوتی تھی. یہ روزے میں جو آپ دیکھتے ہیں #رمضان میں بتاتے ہیں نا کہ
نویت ۔۔۔۔۔۔۔ کے الفاظ میں جو ہے یہ بھی لوگوں کی بنائی گئی ہے. کوئی چیز نہیں۔ یعنی ہر عبادت میں ہر نیکی کے کام آپ دل کا ارادہ میں کریں. بس یہ کافی ہے۔ 
(جاوید احمد غامدی)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عام انتخابات، مہنگائی اور عمران خان کی گرفتاری یا زبان بندی

موبائل فون سے کیسے دور رہیں؟

جنٹلمین (شریف شخص)